قبول اسلام بھی مشکل ہو جائے گا کلمہ طیبہ کے نام پر بنے پاکستان کے لئے لاکھوں مسلمانان ہند نے جان و مال، عزت و آبرو کی قربانیاں اس لیے دی تھی کہ ریاست مدینہ کے بعد کلمہ طیبہ کے نام پر پاکستان دوسرا ملک ہوگا جو دنیا کے نقشے پر ظہور پذیر ہو گا۔ اس بے مثل اور بے لوث جد و جہد کے نتیجے میں اللہ رب العزت نے ہمیں 14 اگست 1947ء کو پاکستان کی نعمت کبری سے نوازا۔
مگر ہماری بدقسمتی کہ ہم رب العالمین سے کیے گئے اللہ کی دھرتی پر الله کا نظام کے وعدے کو پورا کر نے کی بجائے انحراف کے رستے پر چل پڑے۔ ساڑھے سات دہائیاں گزر چکی ، ہم نے اللہ سے کیا وعدہ پورا کر ناتو دور کی بات اس عرصے میں اس جانب ایک بھی قدم نہ بڑھایا۔ ہم نے اپنے ملک پاکستان کو کفرانہ نظاموں کی تجربہ گاہ تو بنایا لیکن ان تجربات کی ناکامی کے باوجوداپنے دین کا کبھی سوچا بھی نہیں ۔ جس کے نتیجے میں ہم راستے سے بھٹک گئے اوراپنی منزل سے اتنادور نکل چکے جہاں مادر پدر آزاد معاشرے کی تباہ کاریوں نے ہماری دہلیز پر دستک دےڈالی۔
مذہب کو تبدیل
کرانے میں ملوث ہونے والے افراد کو کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال
قید اور جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔ اسی قسم کا ایک بل 2016/17 میں سندھ اسمبلی سے بھی
پاس ہو چکا ہے۔ لیکن سابق گورنر سعید الزمان صدیقی نے اس بل پر دستخط کرنے کے
بجائے اسے واپس اسمبلی بھیج دیا تھا۔ اب نام نہاد ریاست مدینہ کے دعویدار اس ادھورے
کام کو پورا کر کے بجانے کسی نادیدہ آقا کی خوشنودی حاصل کر نا چاہتے ہیں۔ پوری
قوم اور خاص کر تمام سیاسی اور خصوصا مذہی جماعتوں کو سارے مسائل چھوڑ کر اس
معاملے پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہونا چاہیے تو اللہ کی نصرت ایسے آئے گی
جیسے افغانستان میں آئی۔ ہمارے ریاستی اداروں کو بھی جاننا چاہیے کہ آخر موجودہ
حکومت کو اس قسم کی ’’ فیڈنگ کون کر رہا ہےعلماء اور عوام کو آگے بھی ایسے ہی بیدار اور متحد رہنا ہو گا۔ اگر اٹھارہ سال کی شرط لگانے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے تھوڑی عمر کافرد نابالغ رہتا ہے۔پہلی بات تویہ ہے کہ نابالغ کا اسلام قبول کرنا بھی درست ہے۔ دوسری بات یہ کہ مزہب اسلام کے مطابق بالغ ہونے کی عمر پندرہ سال ہے۔ یہ عمر بھی اس وقت ہے جب لڑکے یا لڑکی میں بلوغت کی کوئی نشانی نظر آئے اور لڑ کا بارہ سال میں اور لڑ کی نو سال میں بلوغت کو نہیں پہنچ سکتے ۔ اگر قانون سازوں کا سہی اصرار ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کا اسلام قبول نہیں ہے تو پھر ان کے پاس ان بے شمار صحابہ کرام کے بارے میں کیا خیال ہے۔ جنہوں نے بلوغت سے قبل اسلام قبول کیا تھا۔ کم عمری میں اسلام لانے والے صحابہ کرام میں حضرت علی( رضی) صرف 10 سال کے تھے۔ حضرت عمیر بن ابی وقاص صرف 16 سال کے عمرتھے ، معاذ بن عمر بن جموع12 يا 13 برس کی عمر میں غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور ابو جہل کو جہنم رسید کیا۔ معوذ بن عفرانہیں معوذ بن حارث بھی کہا جاتا ہے ابو جہل کو قتل کرنے میں یہ بھی شامل تھے 12 یا 13 سال کی عمر میں میں اسلام قبول کیا، حضرت زید بن ثابت 11 سال کے تھےاورعمیر بن سعد بھی صرف 10 سال کے تھے جب آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ حضرت ابو سعید خدری 13 برس کی عمر میں غزوہ احد میں شریک ہوئے۔ حضرت انس بن مالک 8 برس کی عمر میں آپ کے خادم خاص بنے ۔ کس قدر حیرت بلکہ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارا دستور تو اسلامی قانون سازی کی ضمانت دیتا ہے،
مگر قانون بنانےوالے دستور اسلامی کو اہمیت دینے کے لیے تیار
نہیں ہیں، جس کے تحفظ اور پاس داری کا انہوں نے خود بھی حلف اٹھایا ہے۔ ہمارا یہ
عقیدہ ہے کہ اسلام آخری دین ہے اور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلى الله عليه وسلم
اللہ کے آخری نبی اور پیغمبر ہیں ، اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ لہذا امت
محمدی میں شامل ہر مسلمان اسلام کا داعی ہے اور اسلام کی تبلیغ اس پر فرض ہے۔ ہر
مسلمان کی یہ کوشش کم از کم خواہش ہونی چاہیے کہ اس دار فانی میں موجود ہر بنده
مشرف بہ اسلام ہو مگر پتہ نہیں تبد یلی سرکار ایساکیوں نہیں سوچ رہی۔ اگر یہ قانون
بن گیا تو پھر اگلے مرحلے میں مسجدوں ا ور مدرسوں اور خاص طور پر تبلیغی جماعت پر
پابندی کے ساتھ ساتھ رائے ونڈ مرکز سمیت تمام تبلیغی مراکز کو بند کیا جائے گا
کیونکہ دین اسلام کی تبلیغ اسی جگہ سے ہی شروع ہوتی ہے اور ان کی کوششوں سے ہی غیر
مسلم جوق در جوق اسلام قبول کرتے ہیں۔ مگر حکومت یہ جنگ نہیں جیت سکتی ہے۔ انشاء
الله کم سن، نوجوان ، جوان اور بوڑھے مردو زن مسلمان ہوتے رہیں گے اور اسلام پوری
دنیا پر غالب آکر رہے گا یہ اللہ کا و عدد ہے۔

0 Comments